شہری و بلدیاتی مسائل کے حل کیلئے کوشاں 021-34918201   info@jipublicaid.com
پبلک ایڈ قیادت

صدر کا پیغام

کراچی کے شہری مسائل، عوامی جدوجہد اور پبلک ایڈ ڈیجیٹل پورٹل کے کردار پر پیغام۔

کراچی شہر میں روز افزوں بڑھتی شہری مشکلات، نام نہاد عوامی نمائندوں کی بے حسی، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی یکسر لاتعلقی۔ جب ان مسلط کردہ کرپٹ قیادت کی مسائل پر توجہ صرف فنڈ اکٹھا کرنے کے لیے ہو تو ایسی صورت میں مسائل بڑھائے جاتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ کرپشن کی جا سکے۔

ہر وہ ادارہ جس کا کام شہریوں کو سہولت فراہم کرنا ہے، وہ بجائے سہولت فراہم کرنے کے اسی شکایت کنندہ کو بھنبھوڑنے پر اتر آتا ہے۔ کے الیکٹرک ہو یا سوئی گیس، نادرا ہو یا واٹر اینڈ سیوریج بورڈ، ہر ادارہ عوام کو لوٹنے میں لگا ہے۔ مزید المیہ یہ ہوا کہ سرکار کی دیکھا دیکھی نجی اور غیر سرکاری ادارے بھی لوٹ کھسوٹ کی اس دوڑ میں شامل ہو گئے۔ عوامی سہولت کے سرکاری ادارے تعلیم، صحت جیسی بنیادی سہولت تو کیا فراہم کرتے، اب کم و بیش تمام نجی ادارے بھی صحت اور تعلیم کے نام پر لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر چکے ہیں۔

عام آدمی کبھی بجلی گیس کے بے تحاشہ بڑھتے بل، روز بروز مہنگی ہوتی تعلیم، اور خواب سی محسوس ہوتی علاج کی سہولتوں کو روتا ہے۔

عام آدمی کی زندگی کے خوابوں میں ایک خواب، ایک چھوٹا ہی سہی مگر اپنا گھر ہوتا ہے۔ عام آدمی کے اس خواب کی بھیانک تعبیر اس کی زندگی بھر کی جمع پونجی سمیٹ کر ہڑپ کر جانے والی ہاؤسنگ اسکیم، نجی بلڈرز، کوآپریٹو اسکیمز کی شکل میں ایک نیا مافیا ہے، جسے کرپٹ سرکاری اداروں کی مکمل حمایت اور تعاون حاصل ہے۔ عام آدمی ان کے سامنے بالکل بے بس ہے۔

ایسے میں جماعت اسلامی کراچی نے پبلک ایڈ کراچی کے پلیٹ فارم سے ایسے مظلوم لوگوں کی آواز بننے کا فیصلہ کیا۔

گذشتہ چار سالوں سے پبلک ایڈ جماعت اسلامی کراچی ہر خاص و عام شکایت پر توجہ دیتی ہے، متعلقہ اداروں سے رابطہ کرتی ہے، مظلوم اور مصیبت زدہ کی شکایت ان تک پہنچاتی ہے اور ان کے حل کے لیے تمام تر عوامی دباؤ کو استعمال کرتی ہے۔ اعلیٰ حکام تک اپنی آواز پہنچانے کے لیے مظاہروں، جلسوں، دھرنوں، غرض تمام تر سیاسی طرز عمل سے، اقتدار کا حصہ نہ ہونے کے باوجود، کے الیکٹرک، نادرا، سوئی گیس، واٹر اینڈ سیوریج بورڈ، نجی تعمیرات کے ادارے، ہاؤسنگ اسکیمز اور کارپوریٹ سیکٹرز تک تمام تر قانونی طریقہ کار کو بروئے کار لا کر ایک عام آدمی کی داد رسی کی حتی الامکان کوشش کی جاتی ہے۔

اس طریقہ کار کے ذریعے تمام تر تو نہیں، لیکن بڑی حد تک عام اور خاص شکایات کا ازالہ کروایا گیا۔ کے الیکٹرک کے ناجائز واجبات، نادرا کی من مانیوں، نجی تعمیراتی اداروں کی بد معاشی کو بڑی حد تک قابو کیا گیا۔

اب صورت یہ ہے کہ عام مظلوم مرد و زن کا رخ ادارہ نور حق میں واقع پبلک ایڈ کی طرف ہے۔ عوامی شکایت کے اس بڑھتے ہوئے انبار کو درست طریقہ سے نمٹنے کے لیے پبلک ایڈ کی آئی ٹی ٹیم نے ویب پورٹل متعارف کروایا ہے جس سے ان عوامی شکایات سے مؤثر طور پر نمٹنے میں مدد ملے گی۔

ہم امید کرتے ہیں کہ اب اس جدید ویب پورٹل کی مدد سے عام افراد کی شکایات کا تجزیہ، ان کی درجہ بندی، سائلین کا ڈیٹا، ان تک رسائی اور مسائل کے حل کے لیے کی جانے والی کاوش ایک مربوط نظام کے ذریعے یکجا ہوں گی، جو مسائل کے تدارک میں بہت مؤثر ثابت ہو گی۔

Saifuddin Advocate صدر، پبلک ایڈ
ہوم درج ٹریک